Wednesday, 7 October 2020

آج جو میرے گریباں پہ ہے برسا پانی

 آج جو میرے گریباں پہ ہے برسا پانی

کس قدر سرد ہے آنکھوں کا یہ جلتا پانی

کس قدر شوق سے ہونٹوں پہ ہنسی آئی ہے

آج اک مان سے آنکھوں میں ہے اترا پانی

لوگ بے کار میں اب خون بہا دیتے ہیں

اب تو پیاسوں پہ بھروسہ نہیں کرتا پانی

ہم نے ماضی سے کبھی حال کا سودا نہ کیا

کہ الٹ سمت کبھی بھی نہیں بہتا پانی

بے زبانی نہ سمجھ میری خامشی کو تو

شور کرتا نہیں عابد کبھی گہرا پانی


عابد بنوی

No comments:

Post a Comment