آج جو میرے گریباں پہ ہے برسا پانی
کس قدر سرد ہے آنکھوں کا یہ جلتا پانی
کس قدر شوق سے ہونٹوں پہ ہنسی آئی ہے
آج اک مان سے آنکھوں میں ہے اترا پانی
لوگ بے کار میں اب خون بہا دیتے ہیں
اب تو پیاسوں پہ بھروسہ نہیں کرتا پانی
ہم نے ماضی سے کبھی حال کا سودا نہ کیا
کہ الٹ سمت کبھی بھی نہیں بہتا پانی
بے زبانی نہ سمجھ میری خامشی کو تو
شور کرتا نہیں عابد کبھی گہرا پانی
عابد بنوی
No comments:
Post a Comment