تم تو بس
تم نے کبھی
انتظار سے بھری آنکھیں دیکھی ہیں؟
نہیں دیکھی
میں نے دیکھی ہیں
تمہیں پتہ ہے؟ انتظار کا درد
شریانوں میں گھل کر سارے بدن کو
جب نیلا کر دیتا ہے
تو بدن کے مرنے سے پہلے ہی
آنکھیں مر جاتی ہیں
مگر تمہیں پتہ ہے، انتظار سے بھری آنکھیں
مر کر بھی مرتی نہیں ہیں
بس دُھند اور بادلوں کے سنگ ہو لیتی ہیں
اور تم
تم یہ سب دیکھ نہیں سکتے
دیکھنا تو دور کی بات
محسوس بھی نہیں کر سکتے
انتظار، تنہائی، خوف اور اداسی جیسے لفظ
تمہاری ڈکشنری میں سِرے سے موجود ہی نہیں
تم تو بس؟
نجمہ منصور
No comments:
Post a Comment