Wednesday, 7 October 2020

تیری روٹھی ہوئی آواز

 تیری روٹھی ہوئی آواز


تیری روٹھی ہوئی آواز

میرے لیے روشنی کی علامت ہے

اکثر شب کی تاریکی میں

یہ پہلے مجھے مارتی ہے پھر زندہ کرتی ہے

پھر مارتی ہے پھر زندہ کرتی ہے

مگر میں اداس نہیں ہوتی

تیری یہ روٹھی ہوئی آواز

نظموں کی صورت

ہمیشہ سے میرے ساتھ ہے

میرے بہت قریب

اتنا قریب کہ

رات کی گہری خامشی اور تیرگی میں

میری نظم کی سطروں کی صورت

تیری سانسیں میرے سینے میں بجتی ہیں

اور کبھی کبھی تو

موم بتی کی طرح قطرہ قطرہ پگھلتی

تیری یہ آواز

رات کی ہتھیلی پر دائرے بناتی ہے تو

میری نظم کے زینے پر

لفظوں کے ننھے منے دیپ جل اُٹھتے ہیں

جن کی خنک روشنی

میرے اندر گھل مل جاتی ہے

اور میں

مرتے مرتے جی اٹھتی ہوں

اکثر شب کی تاریکی میں


نجمہ منصور

No comments:

Post a Comment