تیری روٹھی ہوئی آواز
تیری روٹھی ہوئی آواز
میرے لیے روشنی کی علامت ہے
اکثر شب کی تاریکی میں
یہ پہلے مجھے مارتی ہے پھر زندہ کرتی ہے
پھر مارتی ہے پھر زندہ کرتی ہے
مگر میں اداس نہیں ہوتی
تیری یہ روٹھی ہوئی آواز
نظموں کی صورت
ہمیشہ سے میرے ساتھ ہے
میرے بہت قریب
اتنا قریب کہ
رات کی گہری خامشی اور تیرگی میں
میری نظم کی سطروں کی صورت
تیری سانسیں میرے سینے میں بجتی ہیں
اور کبھی کبھی تو
موم بتی کی طرح قطرہ قطرہ پگھلتی
تیری یہ آواز
رات کی ہتھیلی پر دائرے بناتی ہے تو
میری نظم کے زینے پر
لفظوں کے ننھے منے دیپ جل اُٹھتے ہیں
جن کی خنک روشنی
میرے اندر گھل مل جاتی ہے
اور میں
مرتے مرتے جی اٹھتی ہوں
اکثر شب کی تاریکی میں
نجمہ منصور
No comments:
Post a Comment