Wednesday, 7 October 2020

کہ دن آئے نہیں اچھے ہمارے

 غلط نکلے سب اندازے ہمارے

کہ دن آئے نہیں اچھے ہمارے

سفر سے باز رہنے کو کہا ہے

کسی نے کھول کر تسمے ہمارے

ہر اک موسم بہت اندر تک آیا

کھلے رہتے تھے دروازے ہمارے

اگر ہم پر یقیں آتا نہیں، تو

کہیں لگوا لو انگوٹھے ہمارے

بشارت دی ہے آزادی کی اس نے

ہوا میں پھینک کر پنجرے ہمارے

اس ابرِ مہرباں سے کیا شکایت

اگر برتن نہیں بھرتے ہمارے

مہینے بعد بیٹی سے ملا ہوں

ہمیں لے دے گئے جھگڑے ہمارے


تہذیب حافی

No comments:

Post a Comment