Tuesday, 6 October 2020

ہم کو برسوں کی ریاضت کی کمائی دے دو

 ہم کو برسوں کی ریاضت کی کمائی دے دو

یا ہمیں اپنے تعلق سے رہائی دے دو

تم نے اک روز رعایت میں لیا تھا ہم سے

بس ہمیں آج وہ احساس خدائی دے دو

شاخِ گل ہاتھ میں میرے جو تھما دی تم نے

کب کہا، ہاتھ میں تم دست حنائی دے دو

مجھ میں اتری ہے یہ احساس کی ٹھنڈک کیسی

اے کڑی دھوپ مجھے اپنی رضائی دے دو

ہم پہ تم وصل کا احسان جتاتے کیوں ہو

اس سے بہتر ہے ہمیں درد جدائی دے دو

چارہ گر تم سے نہ ہو پائے گا اس دل کا علاج

میرے دشمن کو مِرے غم کی دوائی دے دو


عابد بنوی

No comments:

Post a Comment