ہم کو برسوں کی ریاضت کی کمائی دے دو
یا ہمیں اپنے تعلق سے رہائی دے دو
تم نے اک روز رعایت میں لیا تھا ہم سے
بس ہمیں آج وہ احساس خدائی دے دو
شاخِ گل ہاتھ میں میرے جو تھما دی تم نے
کب کہا، ہاتھ میں تم دست حنائی دے دو
مجھ میں اتری ہے یہ احساس کی ٹھنڈک کیسی
اے کڑی دھوپ مجھے اپنی رضائی دے دو
ہم پہ تم وصل کا احسان جتاتے کیوں ہو
اس سے بہتر ہے ہمیں درد جدائی دے دو
چارہ گر تم سے نہ ہو پائے گا اس دل کا علاج
میرے دشمن کو مِرے غم کی دوائی دے دو
عابد بنوی
No comments:
Post a Comment