Tuesday, 6 October 2020

کیوں نہ اس طور سے یہ عمر گزاری جائے

کیوں نہ اس طور سے یہ عمر گزاری جائے

جیسے جیتی ہوئی بازی کوئی ہاری جائے

ہے عبث میرے مقدر سے الجھنا تیرا

یہ تِری زلف نہیں ہے کہ سنواری جائے

شام دلہن کی طرح ہوتی ہے رخصت، لیکن

ہر سحر اب بھی مِرے گھر سے کنواری جائے

اس قدر ربط ہے اس شخص سے گہرا دل کا

چوٹ لگ جائے اسے، جان ہماری جائے

سونپ دے لاکھ مشیت مجھے تقدیر، مگر

بے بسی قرض نہیں ہے کہ اتاری جائے

لوگ کہتے ہیں وہ گزرے تھے یہاں سے عابد

کیوں نہ اس شہر میں اک شام گزاری جائے


عابد بنوی

No comments:

Post a Comment