Monday, 5 October 2020

جب سے وہ مجھ سے ہے بچھڑا مرے دروازے پر

 جب سے وہ مجھ سے ہے بچھڑا مِرے دروازے پر

پھر کوئی آ کے نہ ٹھہرا مِرے دروازے پر

جب کبھی برف ہوئیں گھر کی مِری دیواریں

کوئی سورج نہیں نکلا مرے دروازے پر

آج پھر کس نے مجھے اپنا جنوں سونپ دیا

رکھ گیا کون یہ صحرا مرے دروازے پر

اس نے کرلی ہے ستاروں پہ رہائش اپنی

اب وہ مجھ سے نہیں ملتا مرے دروازے پر

مجھ کو فرہاد کا جذبہ بھی تو لا کر دے دو

رکھ دیا تم نے جو تیشہ مرے دروازے پر

جانے کیا سوچ کے لوگوں نے یہاں ڈال دیا

یہ بھرے شہر کا ملبا مرے دروازے پر

روز آتا ہے نظر روئے سحر میں مجھ کو

اک نئی شام کا جلوہ مرے دروازے پر

لوگ خیرات میں آنکھیں بھی تو دے دیتے ہیں

تم بھی رکھ دو کوئی سپنا مرے دروازے پر

مجھ کو معلوم ہے وہ شخص کرے گا پھر سے

اب نئے جبر کا سودا مرے دروازے پر

اب کسی طور نہ برسے کبھی شاید بارش

ہے رواں پیاس کا دریا مرے دروازے پر

آسماں اور ہی مطلوب ہے اس کو شاید

چاند جو اب نہیں رکتا مرے دروازے پر

کس مہارت سے مقدر نے بنا ڈالا ہے

میرے حالات کا چہرہ مرے دروازے پر

شہر روشن میں نمایاں ہے مِرا گھر دیکھو

اک دیا بھی نہیں جلتا مرے دروازے پر

کچھ بھی ہو جائے نہ ٹوٹے گا کسی سے عابد

اس کے احساس کا پہرہ مرے دروازے پر


عابد بنوی

No comments:

Post a Comment