بس محبت میں یہی ایک خسارا ہے مجھے
تُو نے غیروں کی طرح دل سے اتارا ہے مجھے
کرب، جس لفظ کا مفہوم تھا پوچھا تُو نے
تُو نے اس لفظ سے ہر روز گزارا ہے مجھے
کچھ بھی ہو تیرے حوالے سے ہے شہرت میری
اک اسی بات کا اے دوست سہارا ہے مجھے
اس قدر تیری وفاؤں کا کرم بھی نہ تھا
جس قدر تیری جفاؤں نے نکھارا ہے مجھے
تیرے انداز مروت کی بات ہی کیا ہے
تیرا انداز ستم اور بھی پیارا ہے مجھے
کون جانے ترے چھونے سے ہی ٹوٹا ہوں میں
کون مانے کہ تِرے لمس نے مارا ہے مجھے
مجھ کو ایسے تو خوشی بھی نہ کبھی راس آٸی
جس سہولت سے تِرے غم نے سنوارا ہے مجھے
اب ارادہ ہے کسی بن میں ٹھکانہ کر لوں
اہل دنیا نے تو آنکھوں سے اتارا ہے مجھے
کوٸی بھی صبح سلامت نہیں رہتی میری
ورنہ اس شہر کی ہر شام گوارا ہے مجھے
آج پھر وقت سے عابد مِرا جھگڑا ہو گا
میرے ماضی نے پھر اک بار پکارا ہے مجھے
عابد بنوی
No comments:
Post a Comment