وہ شخص دیدۂ گریہ کو دھو نہیں پاتا
جو چاہ کر بھی کبھی دل سے رو نہیں پاتا
ارے میں تجھ کو مسرت کی حد بتاؤں کیا
میں تو اداس بھی جی بھر کے ہو نہیں پاتا
مدارِ عشق کی سرحد سے دل نکل کر بھی
طلب کی آخری منزل کو تو نہیں پاتا
تِرے خیال کی زنجیر توڑتا ہوں مگر
میں تیرے لمس سے آزاد ہو نہیں پاتا
یہ کس مقام پہ راتوں کو نیند آنے لگی
کہ اب وہ شخص کسی طور سو نہیں پاتا
سوال یہ ہے کیوں آنکھوں میں پڑ گئے پتھر
جواب یہ ہے کہ اب دل جو رو نہیں پاتا
وہ روز میرے ارادوں کو قتل کرتا ہے
جو میرے صبر کے انجام کو نہیں پاتا
وہ شخص اپنی عبادت میں کتنا عاجز ہے
خدا کو جا کے حرم میں بھی جو نہیں پاتا
یوں بے حسی میں بھی اک اپنا لطف ہے عابد
کسی بھی غم کا اثر دل پہ ہو نہیں پاتا
عابد بنوی
No comments:
Post a Comment