Tuesday, 6 October 2020

وہ شخص دیدہ گریہ کو دھو نہیں پاتا

 وہ شخص دیدۂ گریہ کو دھو نہیں پاتا

جو چاہ کر بھی کبھی دل سے رو نہیں پاتا

ارے میں تجھ کو مسرت کی حد بتاؤں کیا

میں تو اداس بھی جی بھر کے ہو نہیں پاتا

مدارِ عشق کی سرحد سے دل نکل کر بھی

طلب کی آخری منزل کو تو نہیں پاتا

تِرے خیال کی زنجیر توڑتا ہوں مگر

میں تیرے لمس سے آزاد ہو نہیں پاتا

یہ کس مقام پہ راتوں کو نیند آنے لگی

کہ اب وہ شخص کسی طور سو نہیں پاتا

سوال یہ ہے کیوں آنکھوں میں پڑ گئے پتھر

جواب یہ ہے کہ اب دل جو رو نہیں پاتا

وہ روز میرے ارادوں کو قتل کرتا ہے

جو میرے صبر کے انجام کو نہیں پاتا

وہ شخص اپنی عبادت میں کتنا عاجز ہے

خدا کو جا کے حرم میں بھی جو نہیں پاتا

یوں بے حسی میں بھی اک اپنا لطف ہے عابد

کسی بھی غم کا اثر دل پہ ہو نہیں پاتا


عابد بنوی

No comments:

Post a Comment