Tuesday, 6 October 2020

گھونسلہ باقی رہے گا نہ یہاں پر تنکے

 گھونسلہ باقی رہے گا نہ یہاں پر تنکے

چل تجھے عشق کے نقصان بتاؤں گن کے

تجھ کو سب درد اکیلے ہی اٹھانے ہوں گے

دیکھ یہ لوگ تو ساتھی ہیں فقط دو دن کے

یار کب وصل کی صورت ہے کوئی بھی لیکن

یار بھگتان بھگتنے ہیں اسی لیکن کے

میرے دشمن ہیں تو تو بھی نہ تعلق رکھنا

نام انگلی پہ میں گنوانے لگی جن جن کے

اس کی ہے عمر محبت کے لیے نا موزوں

چھین لے وقت نہ سب رنگ مِرے کم سن کے

اب تو ممکن بھی رسائی میں نہیں ہوتے ہیں

اور تو خواب سجا بیٹھی ہے نا ممکن کے

آج کی شام نے دل میں بھی اداسی بھر دی

آج تو شعر سنا فیض کے یا محسن کے


کومل جوئیہ

No comments:

Post a Comment