Sunday, 8 August 2021

فلک پر ہم پکارے جا رہے ہیں

 فلک پر ہم پکارے جا رہے ہیں

زمیں سے بس گزارے جا رہے ہیں

کہانی کار کو جلدی ہے شاید

سبھی کردار مارے جا رہے ہیں

گِرانے کے بہانے یہ ستارے

زمیں پر کیوں اتارے جا رہے ہیں

سہارہ ہم تھے جن کا ہر قدم پر

وہ اب کس کے سہارے جا رہے ہیں

ابھی چھٹنے لگے گا یہ اندھیرا

وہاں گیسو سنوارے جا رہے ہیں

مِری تحقیق جاری ہے پری پر

تِری جانب اشارے جا رہے ہیں


جاوید جدون

No comments:

Post a Comment