فلک پر ہم پکارے جا رہے ہیں
زمیں سے بس گزارے جا رہے ہیں
کہانی کار کو جلدی ہے شاید
سبھی کردار مارے جا رہے ہیں
گِرانے کے بہانے یہ ستارے
زمیں پر کیوں اتارے جا رہے ہیں
سہارہ ہم تھے جن کا ہر قدم پر
وہ اب کس کے سہارے جا رہے ہیں
ابھی چھٹنے لگے گا یہ اندھیرا
وہاں گیسو سنوارے جا رہے ہیں
مِری تحقیق جاری ہے پری پر
تِری جانب اشارے جا رہے ہیں
جاوید جدون
No comments:
Post a Comment