سب جو کرتے ہیں اسی کام سے ڈر لگتا ہے
اے محبت! تِرے انجام سے ڈر لگتا ہے
مجھ پہ یہ جہدِ مسلسل ہے کچھ ایسے لازم
تھک بھی جاتا ہوں تو آرام سے ڈر لگتا ہے
مِری وحشت نے کہیں کا نہیں چھوڑا مجھ کو
اپنے گھر کے ہی در و بام سے ڈر لگتا ہے
اس کو پی کر میں کہیں نام نہ لے لوں تیرا
یوں تو تشنہ ہوں مگر جام سے ڈر لگتا ہے
جو کبھی خون سے لکھتا تھا اسے کاغذ پر
اب وہ کہتا ہے تِرے نام سے ڈر لگتا ہے
مجھ سے جاتا ہوا سورج نہیں دیکھا جاتا
یاد آتی ہے تِری، شام سے ڈر لگتا ہے
جاوید جدون
No comments:
Post a Comment