Tuesday, 3 August 2021

میں خزاں رسیدہ گلاب ہوں مجھے چاہتوں کی بہار دے

 میں خزاں رسیدہ گلاب ہوں، مجھے چاہتوں کی بہار دے

میرے ہمنفس میرے پاس آ، مجھے چند سانسیں ادھار دے

میں محبتوں کی کتاب ہوں مجھے اپنے دل کی نظر سے پڑھ

میرا حرف حرف اجال دے، میرا لفظ لفظ نکھار دے

مجھے آنکھ بھرکے تو دیکھ لے، میرے واسطے ہے تو آئینہ

میری سادگی میں بھی حسن ہو، میرا روپ ایسا نکھار دے

تیری کشتی پر میں سوار ہوں، تیری مرضی اب میرے نا خدا

تُو جدھر سے چاہے گزار دے، تُو جہاں بھی چاہے اتار دے

جسے تُو لکھے اسے میں پڑھوں جسے میں لکھوں اسے تُو پڑھے

میں تیری غزل کو سنوار دوں، تُو میری غزل کو سنوار دے

مجھے گلستانوں سے کیا غرض، مجھے دشت و صحرا کا خوف کیا

اسی راستے پہ میں چل پڑوں، تُو جہاں سے مجھ کو پکار دے

میں کروں گی دل سے قبول اسے، مجھے نذر جو بھی کرے گا تُو

مجھے دے سکے نہ تُو پھول اگر تیرے پاس خار ہے خار دے

میرا ظرف تُو نہ یوں آزما، میرا غم ہے نغمہ جاوِداں

میرے ضبط کی کوئی حد نہیں، مجھے زخم چاہے ہزار دے


نغمہ نور

No comments:

Post a Comment