Sunday, 18 July 2021

میرے جو بنے بیٹھے ہیں اب یار کہیں کے

 میرے جو بنے بیٹھے ہیں اب یار کہیں کے 

اندر سے ہیں کچھ اور یہ مکار کہیں کے 

جب میں نے کہا؛ درد بڑھا جاتا ہے حد سے 

کہنے لگے؛ اب مر بھی جا بیمار کہیں کے

ہے تیری طلب کس کو یہاں مجھ سے زیادہ

دیکھوں تو ذرا میں بھی طلب گار کہیں کے

جِتنوں نے بھی لُوٹا ہے مِری ارضِ وطن کو

سُولی کے وہ حق دار ہیں غدار کہیں کے


جاوید جدون

No comments:

Post a Comment