میرے جو بنے بیٹھے ہیں اب یار کہیں کے
اندر سے ہیں کچھ اور یہ مکار کہیں کے
جب میں نے کہا؛ درد بڑھا جاتا ہے حد سے
کہنے لگے؛ اب مر بھی جا بیمار کہیں کے
ہے تیری طلب کس کو یہاں مجھ سے زیادہ
دیکھوں تو ذرا میں بھی طلب گار کہیں کے
جِتنوں نے بھی لُوٹا ہے مِری ارضِ وطن کو
سُولی کے وہ حق دار ہیں غدار کہیں کے
جاوید جدون
No comments:
Post a Comment