Sunday, 18 July 2021

ویرانۂ خیال دشت گرم و سرد میں یہ بے دیاروں کا ہجوم

 ویرانۂ خیال


دشت گرم و سرد میں یہ بے دیاروں کا ہجوم

بے خبر ماحول سے

چپ چاپ

خود سے ہمکلام

چل رہا ہے سر جھکائے اس طرح

جس طرح مرگھٹ پہ روحوں کا خرام

زرد چہروں پر ہے صدیوں کی تھکن

سانس لیتے ہیں کچھ ایسے

جیسے ہوتی ہو چبھن

ہونٹ پر غمگیں تبسم اور سینے میں بکا

ہر قدم پر ہڈیوں کے کڑکڑانے کی صدا

ان کی آنکھیں

جن پہ حکم دیدۂ بینا لگاتے ہیں

دیوتاؤں کی بصیرت کانپ جائے

ذہن و دل کا فاصلہ طے کرتے کرتے ہانپ جائے

وسعت ارض و سما اک دیدۂ حیران ہے

اف، یہ میلہ کس قدر ویران ہے


افتخار اعظمی

No comments:

Post a Comment