اسی طرح کی ہوا کے دنوں میں کھلتا ہے
کوئی مکان وبا کے دنوں میں کھلتا ہے
جہان ہے کہیں ایسا کہ جو حقیقت میں
جہانِ خواب نما کے دنوں میں کھلتا ہے
ادا کروں گا انہی حسرتوں کا خمیازہ
جو مجھ پہ خون بہا کے دنوں میں کھلتا ہے
کئی برس کا بھی سہما خزاں رسیدہ درخت
نمو کی لہر میں آ کے دنوں میں کھلتا ہے
میں رفتہ رفتہ اسے اپنے ڈھب پہ لاؤں گا
سنا ہے یوں بھی وہ جا کے دنوں میں کھلتا ہے
کسی زمانے سے جو ساتھ آ گیا تھا مِرے
وہ لمحہ آگے دعا کے دنوں میں کھلتا ہے
مجال ہے جو کبھی وصل کا پتا بھی دے
سمے جو ہجر کا لا کے دنوں میں کھلتا ہے
نگر نگر کی میں تصویر بنتا دیکھوں اسے
وہ ہجرتوں کا سنا کے دنوں میں کھلتا ہے
میں بند آنکھوں سے بھی دیکھ سکتا ہوں عارف
کوئی ستارہ دعا کے دنوں میں کھلتا ہے
عسکری عارف
No comments:
Post a Comment