Monday, 14 February 2022

نہ ہے اجل کی صدا کہیں سے نہ وصل جاناں کی آس کوئی

 نہ ہے اجل کی صدا کہیں سے نہ وصلِ جاناں کی آس کوئی

زمانے بھر میں کہیں نہ ہو گا ہمارے جیسا اداس کوئی

میں ریگزاروں پہ چل کے آیا ہوئے نہیں لب یہ خشک میرے

ہوں مےکدے میں تو ایسا تشنہ بجھا نہ پایا یہ پیاس کوئی

علاج ممکن کچھ اس لیے بھی نہ ہوسکا ہے مریضِ غم کا

ملے ہیں مجھ کو طبیب سارے نہیں ملا غم شناس کوئی

بجا ہے فرقت کا رنج لیکن ہے اک نگاہِ کرم بھی مجھ پر

تُو دور ہوتا ہے جب بھی مجھ سےمجھے بلاتا ہے پاس کوئی

کوئی ہے برتر کوئی ہے کمتر تو صرف اپنے عمل کے بل پر

وگرنہ دنیا میں سب برابر نہ عام کوئی نہ خاص کوئی


جاوید جدون

No comments:

Post a Comment