Monday, 14 February 2022

آج تک ایسا نہ تھا آج مگر بنتا ہے

 آج تک ایسا نہ تھا، آج مگر بنتا ہے

ہاتھ رکھتا ہوں تو دیوار میں در بنتا ہے

آ مِرے سینے سے لگ اور ذرا غور سے دیکھ

موجۂ دل میں تِرے کیسا بھنور بنتا ہے

آنکھ بولی کہ کوئی خواب نہ بن پائے گا

اور دل زور سے دھڑکا کہ ٹھہر! بنتا ہے

شاہ بنتے ہیں یہاں چند یا ان کے پیادے

کون انسان یہاں کون بشر بنتا ہے

بادیہ ناپ چکا، تنہا نہر کھود ہٹا

اس خرابے سے مِرا اب تو سفر بنتا پے


میر تنہا یوسفی

No comments:

Post a Comment