جتنا کمایا، گھر کو بنانے پہ لگ گیا
میں گھر بنا کے پھر سے کمانے پہ لگ گیا
بچوں نے میرے مجھ کو سکھا دی ہیں جدتیں
پیوند یوں نئے کا پرانے پہ لگ گیا
ویسے بھی سانس چل رہی تھی آخری مری
الزام یوں ہی آپ کے آنے پہ لگ گیا
قدغن لگی ہے یار کے دیدار پر بھی یوں
پہرہ ہو جس طرح سے خزانے پہ لگ گیا
کچھ اس وجہ سے ہو گئی تعلیم بے اثر
جو خود نہ پڑھ سکا وہ پڑھانے پہ لگ گیا
چُوکا جہاں نشانۂ اہلِ نظر وہیں
اندھے کا تیر سیدھا نشانے پہ لگ گیا
کرتی ہو سب کے دل پہ اثر جس کی شاعری
سمجھو کہ فن اسی کا ٹھکانے پہ لگ گیا
جاوید جدون
No comments:
Post a Comment