Friday, 13 November 2020

اس محبت کا تو صحرا کو نشاں جاتا ہے

 پہلے جانے پہ یہ کہتے تھے کہاں جاتا ہے

اب یہ کہتے ہیں کہ جانے دو جہاں جاتا ہے

واپسی عشق سے ہوتی ہے بڑھاپا لے کر

پہلے پہلے کوئی کڑیل سا جواں جاتا ہے

میں تری سمت یوں آتا ہوں نمازی جیسے

کسی مسجد کی طرف بعدِ اذاں جاتا ہے

پچھلے جنموں میں کسی دشت کی ناگن ہوگی

اس محبت کا تو صحرا کو نشاں جاتا ہے

کرتی رہتی ہے وہ کچھ ایسی ادا سے توبہ

میرا ہر بار گناہوں کو گماں جاتا ہے

آگہی ریل کی پٹری ہے یہاں پر ثاقب

مرنے کو صاحبِ تعلیم جہاں جاتا ہے


عبید ثاقب

No comments:

Post a Comment