تیرے بغیردرد سنبھالوں گا کس طرح
آتش نہیں ہے دودھ ابالوں گا کس طرح
اک نام کی اگرچہ ضرورت نہیں رہی
فہرست بن چکی ہے نکالوں گا کس طرح
طرفین ایک سی ہیں خسارے نہ فائدے
یہ سکہ مل گیا تو اچھالوں گا کس طرح
شاعر ہوں جانتا ہوں فن کیمیا گری
لوہے کو سرخ پھول میں ڈھالوں گا کس طرح
قحط الرجال اس پہ دل درد آشنا
اکرام اس غریب کو پالوں گا کس طرح
اکرام عارفی
No comments:
Post a Comment