Friday, 13 November 2020

تیرے بغیردرد سنبھالوں گا کس طرح

 تیرے بغیردرد سنبھالوں گا کس طرح

آتش نہیں ہے دودھ ابالوں گا کس طرح

اک نام کی اگرچہ ضرورت نہیں رہی

فہرست بن چکی ہے نکالوں گا کس طرح

طرفین ایک سی ہیں خسارے نہ فائدے

یہ سکہ مل گیا تو اچھالوں گا کس طرح

شاعر ہوں جانتا ہوں فن کیمیا گری

لوہے کو سرخ پھول میں ڈھالوں گا کس طرح

قحط الرجال اس پہ دل درد آشنا

اکرام اس غریب کو پالوں گا کس طرح


اکرام عارفی

No comments:

Post a Comment