سبھی ہیں اس سے پریشان کھینچ لیتا ہے
نظر ملائے تو دل جان کھینچ لیتا ہے
وہ مجھ سے عمر میں چھوٹا ہے پر محبت سے
بڑوں کی طرح مِرے کان کھینچ لیتا ہے
کبھی مذاق میں کہہ دوں کہ ہم بچھڑ گئے تو
پکڑ کے میرا گریبان کھینچ لیتا ہے
جہان بھر کے اسے پھول ملنے آتے ہیں
وہ دشت زاد گلستان کھینچ لیتا ہے
اسی کے نام سے جانا گیا جو اس کا ہوا
حسین شخص ہے پہچان کھینچ لیتا ہے
جھگڑ کے گھر سے جو جانے لگوں تو ہاتھوں سے
وہ آگے بڑھتے ہی سامان کھینچ لیتا ہے
اسامہ سرفراز
No comments:
Post a Comment