Thursday, 6 October 2022

سبھی ہیں اس سے پریشان کھینچ لیتا ہے

 سبھی ہیں اس سے پریشان کھینچ لیتا ہے

نظر ملائے تو دل جان کھینچ لیتا ہے

وہ مجھ سے عمر میں چھوٹا ہے پر محبت سے

بڑوں کی طرح مِرے کان کھینچ لیتا ہے

کبھی مذاق میں کہہ دوں کہ ہم بچھڑ گئے تو 

پکڑ کے میرا گریبان کھینچ لیتا ہے 

جہان بھر کے اسے پھول ملنے آتے ہیں 

وہ دشت زاد گلستان کھینچ لیتا ہے

اسی کے نام سے جانا گیا جو اس کا ہوا 

حسین شخص ہے پہچان کھینچ لیتا ہے 

جھگڑ کے گھر سے جو جانے لگوں تو ہاتھوں سے

وہ آگے بڑھتے ہی سامان کھینچ لیتا ہے 


اسامہ سرفراز

No comments:

Post a Comment