تیرا غم بھی ہے مسلسل، وحشتیں بھی طاری ہیں
اشک یوں تو تھم چکے ہیں، پلکیں اب بھی بھاری ہیں
جن کو بچپن سے ہی میں نے جیت جانا سیکھا تھا
تیری خاطر میں نے اکثر، ایسی چالیں ہاری ہیں
اس سے بڑھ کر فُرقتوں میں، کچھ نہ مجھ سے بن پڑا
جان تم کو دان کر دی،۔ تم پہ سانسیں واری ہیں
سُکھ بھی ڈھیروں پائے ہیں میں نے محبت میں مگر
چند صدمے عمر بھر کی، ہر خوشی پر بھاری ہیں
کاظم علی
No comments:
Post a Comment