خواہش کا عذاب
اور پھر ایک دن
جسم میں چیختی خواہشیں
بے صدا ہو گئیں
جب درختوں سے لٹکے ہوئے
خوف کے سانپ
زہر ناکامیوں کا اگلنے لگے
گاؤں کی سونی پگڈنڈی کے موڑ پر
حوصلوں کو مِرے کچھ ملی روشنی
پھر اچانک
اندھیرے کی جھاڑی سے نکلی ہوئی
سرسراہٹ نے پگھلا دئیے
خواہشوں کے سُلگتے بدن
سلیم انصاری
No comments:
Post a Comment