دیکھا تجھے تو آنکھوں نے ایواں سجا لیے
جیسے تمام کھوئے ہوئے خواب پا لیے
جتنے تھے تیرے مہکے ہوئے آنچلوں کے رنگ
سب تتلیوں نے اور دھنک نے اڑا لیے
ایسے گھٹی فضاؤں میں کیسے جئیں گے وہ
کچھ قافلے جو آئے ہیں تازہ ہوا لیے
اِن سرپھری ہواؤں سے کچھ آشنا تو ہوں
گہرے سمندروں میں نہ کشتی کو ڈالیے
اظہار کیجیۓ کہ ذرا کرب کم تو ہو
اے دوستو! دکھوں کو دلوں میں نہ پالیے
خود ہی اٹھائیں اپنے جنوں کی جراحتیں
یہ روگ دوسروں کے نہ کھاتے میں ڈالیے
پہلے یہ کوہسار تو تسخیر کیجیۓ
فارغؔ ابھی فلک پہ کمندیں نہ ڈالیے
فارغ بخاری
No comments:
Post a Comment