Thursday, 3 December 2020

دیکھا تجھے تو آنکھوں نے ایواں سجا لئے

 دیکھا تجھے تو آنکھوں نے ایواں سجا لیے

جیسے تمام کھوئے ہوئے خواب پا لیے

جتنے تھے تیرے مہکے ہوئے آنچلوں کے رنگ

سب تتلیوں نے اور دھنک نے اڑا لیے

ایسے گھٹی فضاؤں میں کیسے جئیں گے وہ

کچھ قافلے جو آئے ہیں تازہ ہوا لیے

اِن سرپھری ہواؤں سے کچھ آشنا تو ہوں

گہرے سمندروں میں نہ کشتی کو ڈالیے

اظہار کیجیۓ کہ ذرا کرب کم تو ہو

اے دوستو! دکھوں کو دلوں میں نہ پالیے

خود ہی اٹھائیں اپنے جنوں کی جراحتیں

یہ روگ دوسروں کے نہ کھاتے میں ڈالیے

پہلے یہ کوہسار تو تسخیر کیجیۓ

فارغؔ ابھی فلک پہ کمندیں نہ ڈالیے


فارغ بخاری

No comments:

Post a Comment