Thursday, 3 December 2020

محل سرا میں ہے کوئی نہ خیمہ گاہ میں ہے

 محل سرا میں ہے کوئی نہ خیمہ گاہ میں ہے

عجیب شہر ہے سارا ہی شہر راہ میں ہے

یہ رخ ہواؤں کا صورت ہے کس تغیر کی

جو تیرے دل میں ہے وہ بھی میری نگاہ میں ہے

سخن بھی ہوتے ہیں اکثر پس سخن کیا کیا

ترے سکوت کا لہجہ بھی میری آہ میں ہے

دمشقِ عشق میں دیوار و در کی حسرت کیا

مسافروں کو تو رہنا ہی گردِ راہ میں ہے

تمام راستے جاتے ہیں ایک منزل تک

کہیں گئے بھی تو آنا اسی کی راہ میں ہے

وہ شہ سوار مری روشنئ جاں ہے نصیر

نہ جو سپاہ سے باہر، نہ جو سپاہ میں ہے


نصیر ترابی

No comments:

Post a Comment