Thursday, 3 December 2020

جس رات کے خواب آئے وہ خوابوں کی رات آئی

 جس رات کے خواب آئے وہ خوابوں کی رات آئی

شرما کے جھکی نظریں ہونٹوں پہ وہ بات آئی


پیغام بہاروں🎋 کا، آخر مِرے نام آیا

پھولوں نے دعائیں دیں، تاروں کا سلام آیا

آپ آئے تو محفل میں، نغموں کی برات آئی

جس رات کے خواب آئے وہ خوابوں کی رات آئی


یہ مہکی ہوئی زلفیں، یہ بہکی ہوئی سانسیں

نیندوں کو چرا لیں گی یہ نیند بھری آنکھیں

تقدیر مِری جاگی، جنت مِرے ہاتھ آئی

جس رات کے خواب آئے وہ خوابوں کی رات آئی


چہرے پہ تبسم نے اِک نُور سا چمکایا

کیا کام چراغوں کا، جب چاند نکل آیا

جو آج دُلہن بن کے پہلو میں حیات آئی

جس رات کے خواب آئے وہ خوابوں کی رات آئی


علی سردار جعفری

No comments:

Post a Comment