Thursday, 8 October 2020

میں کہ اب تیری ہی دیوار کا اک سایا ہوں

 میں کہ اب تیری ہی دیوار کا اک سایا ہوں

کتنے بے خواب دریچوں سے گزر آیا ہوں

مجھ کو احساس ہے حالات کی مجبوری کا

بے وفا کہہ کے تجھے آپ بھی شرمایا ہوں

مجھ کو مت دیکھ مرے ذوق سماعت کو تو دیکھ

کہ تِرے جسم کی ہر تان پہ لہرایا ہوں

اے مورخ مِری اجڑی ہوئی صورت پہ نہ جا

شہر ویراں ہوں مگر وقت کا سرمایہ ہوں

روشنی پھیل گئی ہے مِری خوشبو کی طرح

میں بھی جلتے ہوئے صحراؤں کا ہم سایا ہوں

ہم سفر لاکھ مِری راہ کا پتھر بھی بنے

پھر بھی ذہنوں کے در و بام پہ لہرایا ہوں

نئی منزل کا جنوں تہمت گمراہی ہے

پا شکستہ بھی تِری راہ میں کہلایا ہوں

پھر نمو پائی ہے اک درد خوش آغاز کے ساتھ

دہر میں جرأت اظہار کا پیرایہ ہوں

عمر بھر بت شکنی کرتا رہا آج مگر

اپنی ہی ذات کے کہسار سے ٹکرایا ہوں

دہر میں عظمت آدم کا نشاں ہوں فارغ

کبھی کہسار کبھی دار پہ لہرایا ہوں


فارغ بخاری

No comments:

Post a Comment