Thursday, 8 October 2020

میرے محبوب تم ہو یار تم ہو دلربا تم ہو

 میرے محبوب تم ہو یار تم ہو دل ربا تم ہو

یہ سب کچھ ہو مگر میں کہہ نہیں سکتا کہ کیا تم ہو

تمہارے نام سے سب لوگ مجھ کو جان جاتے ہیں

میں وہ کھوئی ہوئی اک چیز ہوں جس کا پتا تم ہو

محبت کو ہماری اک زمانہ ہو گیا، لیکن

نہ تم سمجھے کہ کیا میں ہوں نہ میں سمجھا کہ کیا تم ہو

ہمارے دل کو بحر غم کی کیا طاقت جو لے بیٹھے

وہ کشتی ڈوب کب سکتی ہے جس کے نا خدا تم ہو

بچھڑنا بھی تمہارا جیتے جی کی موت ہے گویا

اسے کیا خاک لطف زندگی جس سے جدا تم ہو

مصیبت کا تعلق ہم سے کچھ بھی ہو تو راحت ہے

مرے دل کو خدا وہ درد دے جس کی دوا تم ہو

کہیں اس پھوٹے منہ سے بے وفا کا لفظ نکلا تھا

بس اب طعنوں پہ طعنے ہیں کہ بے شک با وفا تم ہو

قیامت آئے گی یا آ گئی، اس کی شکایت کیا

قیامت کیوں نہ ہو جب فتنۂ روز جزا تم ہو

الجھ پڑنے میں کاکل ہو بگڑنے میں مقدر ہو

پلٹنے میں زمانہ ہو، بدلنے میں ہوا تم ہو

وہ کہتے ہیں یہ ساری بے وفائی ہے محبت کی

نہ مضطرؔ بے وفا میں ہوں نہ مضطرؔ بے وفا تم ہو


مضطر خیر آبادی

No comments:

Post a Comment