دریا وہ لب تلک مِرے آنے لگا تو ہے
سمٹا تھا جو حدوں میں سمندر ہوا تو ہے
ردِ عمل ہو دھوپ کا کیسا یہ دیکھیۓ
پت جھڑ کا پھول شاخ پہ کھلنے چلا تو ہے
ممکن ہے کوئی راستہ خوشبو کا اس میں ہو
جنگل سے ایک خواب کا نقشہ ملا تو ہے
جانے کیوں تیرے غم کا مداوا نہ ہو سکا
خوشیوں کے اژدہام میں یہ دل رہا تو ہے
میں اپنے انہدام کا کیا اور دوں ثبوت
ملبہ مِرے وجود کا بکھرا پڑا تو ہے
اب یہ مِرا نصیب جو میں بے نمو رہا
ورنہ وہ ابر مجھ پہ برستا رہا تو ہے
دائم علاج وہم کا ممکن نہیں کوئی
تیرا رہوں گا میں سدا وعدہ کیا تو ہے
دائم بٹ
No comments:
Post a Comment