Friday, 17 December 2021

تمہاری جو مجھ پر یہ ترچھی نظر ہے

 تمہاری جو مجھ پر، یہ ترچھی نظر ہے 

اسی سے بہت مجھ کو خوف و خطر ہے 

محبت میں تسلیمِ خم اپنا سر ہے

محبت میں کیسا، اگر ہے، مگر ہے؟

زمانے کے سارے مصائب سہوں میں  

یہ میرا جگر ہے،۔ یہ میرا جگرہے 

ابھی تک ملی ہے نہ منزل کوئی بھی 

یہ کیسا سفر ہے،۔ یہ کیسا سفر ہے 

محبت نے تیری دکھائے یہ دن بھی 

محبت میں تیری کوئی دربدر ہے

کہوں کیا، کہ ہر پل ہی میرے جہاں میں 

زمینوں کے جھگڑے ہیں، غوغائے زر ہے

کرے رشک  جس پر وہ جنت بھی انجم

مِرا شہر پٹنہ حسیں اس قدر ہے

 

فریدہ انجم

No comments:

Post a Comment