Friday, 17 December 2021

ترا ہجر ایک وبال تھا مگر اب نہیں

 تِرا ہجر ایک وبال تھا، مگر اب نہیں

تجھے بھول جانا محال تھا، مگر اب نہیں

مِرے کردگار نکلتے وقت بہشت سے

مجھے تھوڑا تھوڑا ملال تھا، مگر اب نہیں

تِرا روگ چاٹ گیا ہے میرے حروف سب

مجھے گفتگو میں کمال تھا، مگر اب نہیں

یہی اجنبی جو گیا یہاں سے ابھی ابھی

کبھی اپنا واقفِ حال تھا، مگر اب نہیں

میری آئینوں سے تھی دوستی کسی دور میں

بڑا خوب اپنا جمال تھا، مگر اب نہیں

نہیں جی سکیں گے بچھڑ کے ہم اسے تھا یقیں

مِرا اپنا بھی یہ خیال تھا، مگر اب نہیں


مظہر الحق

No comments:

Post a Comment