محبت میں اک ایسا بھی مقام آتا ہے مشکل کا
جہاں خود دل ہی بن جاتا ہے دشمن ہستیِ دل کا
نظر کیسی خیالوں سے ہے اونچا سلسلہ دل کا
پتہ خود پوچھتا ہے عشق مجھ سے میری منزل کا
ہر اک کروٹ پہ درد عشق کی تڑپا نہیں جاتا
کہاں تک ساتھ دے گی زندگی بے تابئ دل کا
مِری ذوق خلش اک مستقل دنیائے راحت ہے
کہ ہر اک خار پہ ہوتا ہے دھوکا مجھ کو منزل کا
مزے تنہائیوں کے بھی کبھی آتے ہیں محفل میں
کبھی تنہائیاں بھی لطف دے جاتی ہیں محفل کا
پلا ساغر نگاہ مست سے بھی کام لے ساقی
مجھے احساس کچھ ہونے لگا ہے حق و باطل کا
اگر سمجھو تو ہر قطرہ محبت کی کہانی ہے
نہیں یہ اشک اک پیغام ہے ٹوٹے ہوئے دل کا
صدائے شوق نظارہ نہ ساز بے نیازی ہے
بس اک نغمہ فضا میں گونجتا ہے پردۂ دل کا
ترے در پر مجھے یہ فطرت مجبور لائی ہے
نہ جانے آج کس دنیا میں عالم ہے مِرے دل کا
غم پنہاں کے پردے میں نشاط کامرانی ہے
زمانہ سے الگ ہٹ کر زمانہ ہے مِرے دل کا
جنوں کی عظمتیں مجھ کو منیر آغوش میں لیں گی
طواف اپنی نگاہیں کر رہی ہیں اس کی محفل کا
منیر بھوپالی
No comments:
Post a Comment