Tuesday, 9 November 2021

یہ جو ہم اختلاف کرتے ہیں

 یہ جو ہم اختلاف کرتے ہیں

آپ کا اعتراف کرتے ہیں

آؤ دھوتے ہیں دل کے داغوں کو

آؤ، آئینے صاف کرتے ہیں

تم کو خوش دیکھنے کی خاطر ہم

بات اپنے خلاف کرتے ہیں

مجرمِ عشق تُو بھی ہے اے دوست

جا، تجھے ہم معاف کرتے ہیں

لفظ کے گھاؤ ہوں تو کیسے بھریں

لفظ گہرا شگاف کرتے ہیں


تبسم صدیقی

No comments:

Post a Comment