ایک ماں کا خط اپنے بیٹے کے نام
آنکھ کے تارے مِرے دل کے سہارے آ جا
اے مِرے لعل!، مِرے راج دُلارے آ جا
تُو گیا ایسا کہ پلٹ کر نہیں آیا اب تک
چین مجھ کو بھی میسر نہیں آیا اب تک
کس لیے لوٹ کے تُو گھر نہیں آیا اب تک
دور ہے تو برستی ہیں یہ آنکھیں ہر دم
تیری صورت کو ترستی ہیں یہ آنکھیں ہر دم
تیری آہٹ پہ مِرے کان لگے رہتے ہیں
کب چلا آئے تُو دروازے کھلے رہتے ہیں
آخری سانس ہے شاید کہ نکل جائے دم
دیکھ لے آ کے بس اک بار میری آنکھیں نم
دل میں حسرت لیے مر جاؤں نہ بیٹے عالم
آنکھ کے تارے مِرے دل کے سہارے آ جا
اے مِرے لعل! مِرے راج دُلارے آ جا
سیفی سرونجی
No comments:
Post a Comment