Tuesday, 9 November 2021

آرزو جرم ہے مدعا جرم ہے

 آرزو جرم ہے مدعا جرم ہے

اس فضا میں امیدِ وفا جرم ہے

ہر طرف ہیں محبت کی مجبوریاں

ابتداء جرم ہے انتہا جرم ہے

ذوقِ دیدار پر لاکھ پابندیاں

دیکھ کر پھر انہیں دیکھنا جرم ہے

زندگی بھر کی نیندیں اُچٹ جائیں گی

سایۂ زلف میں بیٹھنا جرم ہے

ہر سزا کو کسی کی عطا مانئے

یہ بھی کیوں پوچھئے کون سا جرم ہے

آنکھ اٹھا کر انہیں دیکھیے کس طرح

سر اٹھانے کا بھی حوصلہ جرم ہے

ان کے جلووں کا جب سامنا ہو گیا

پھر کسی اور کا سامنا جرم ہے

خامشی بھی سلیقہ ہے فریاد کا

ان کے جور و ستم پر گِلا جرم ہے

ایسے ماحول میں آ گئے ہم جہاں

اپنے ماحول کا جائزہ جرم ہے

مسلکِ عشق ہے پیروی وفا

حکمت و مصلحت سوچنا جرم ہے

آگہی شرط ہے گمرہی کے لیے

گمرہی پر پتا پوچھنا جرم ہے

دعوئ عشق ہے جرم اول اگر

انحرافِ وفا دوسرا جرم ہے

ان کی شان کرم کہہ رہی ہے رشی

ان سے اب کوئی بھی التجا جرم ہے


رشی پٹیالوی

No comments:

Post a Comment