Tuesday, 5 April 2022

یہ لڑکی جو اس وقت سر بام کھڑی ہے

 یہ لڑکی جو اس وقت سرِ بام کھڑی ہے

اُڑتا ہوا بادل ہے کہ پھولوں کی لڑی ہے

شرماتے ہوئے بندِ قبا کھولے ہیں اس نے

یہ شب کے اندھیروں کے مہکنے کی گھڑی ہے

اک پیرہنِ سُرخ کا جلوہ ہے نظر میں

اک شکل نگینے کی طرح دل میں جڑی ہے

کھلتا تھا کبھی جس میں تمنا کا شگوفہ

کھڑکی وہ بڑی دیر سے ویران پڑی ہے

طاؤس کی آواز سے روشن ہے شبِ تار

صد نغمۂ ناہید یہ ساون کی جھڑی ہے​


منیر نیازی

No comments:

Post a Comment