Tuesday, 5 April 2022

کام بس ایک یہی شام و سحر ہے اس کا

 کام بس ایک یہی شام و سحر ہے اُس کا

جھوٹ کہتا ہے سلیقے سے، ہُنر ہے اس کا

سنگ اوروں پہ اٹھانے کی ہے عادت اس کی

بھول جاتا ہے وہ خود کانچ کا گھر ہے اس کا

راس آتے ہیں کہاں دن کے اجالے اس کو

شب کے تاریک سمندر میں سفر ہے اس کا

فتنہ سامانی ہے اس کے لئے سامانِ سُرور

شر جسے کہتے ہیں منظورِ نظر ہے اس کا

چڑھتا سورج کہ جو مغرور بہت تھا دن بھر

دیکھنا، شام کی دہلیز پہ سر ہے اس کا


سلیمان خمار

No comments:

Post a Comment