Friday, 9 October 2020

دیتی نہیں اماں جو زمیں آسماں تو ہے

 دیتی نہیں اماں جو زمیں آسماں تو ہے

کہنے کو تو اپنے دل میں کوئی داستاں تو ہے

یوں تو ہے رنگ زرد مگر ہونٹ لال ہیں

صحرا کی وسعتوں میں کہیں گلستاں تو ہے

اک چیل ایک ممٹی پہ بیٹھی ہے دھوپ میں

گلیاں اجڑ گئی ہیں مگر پاسباں تو ہے

آواز دے کے دیکھ لو شاید وہ مل ہی جائے

ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے

مجھ سے بہت قریب ہے تو پھر بھی اے منیر

پردہ سا کوئی میرے تیرے درمیاں تو ہے


منیر نیازی

No comments:

Post a Comment