کہیں تلوار کے ساتھ اور کہیں پیار کے ساتھ
داستاں ایک ہی منسوب ہے دربار کے ساتھ
مت بڑھا اتنی بھی ارزانئ دل میرے سخی
ایک دن تُو بھی کھڑا ہو گا طلبگار کے ساتھ
در بدر کرنا، قبیلے سے نکلوا دینا
ہم نظر آئے اگر تمغۂ سردار کے ساتھ
'پھر نہ کہنا میرے سالار کہ، 'معلوم نہ تھا
طاقتِ رزم بھی درکار ہے للکار کے ساتھ
اب کے آئے گا تو پوچھیں گے کہ اے جانِ جہاں
ایسے کرتے ہیں کسی یارِ طرحدار کے ساتھ؟
غزنوی بھیج دے، یا آپ پروہت بن جا
لوگ بت بن کے کھڑے ہیں تیری دیوار کے ساتھ
عاشقی مجھ کو ترے شہر میں لے جاتی ہے
کبھی حیلے سے، کبھی عشوہ و اصرار کے ساتھ
اے خدا! کیا تھا اگر اپنے خزانے سے اسے
دل بھی دے دیتا کہیں طاقتِ گفتار کے ساتھ
احمد حماد
No comments:
Post a Comment