Friday, 9 October 2020

کہیں تلوار کے ساتھ اور کہیں پیار کے ساتھ

 کہیں تلوار کے ساتھ اور کہیں پیار کے ساتھ

داستاں ایک ہی منسوب ہے دربار کے ساتھ

مت بڑھا اتنی بھی ارزانئ دل میرے سخی

ایک دن تُو بھی کھڑا ہو گا طلبگار کے ساتھ

در بدر کرنا، قبیلے سے نکلوا دینا

ہم نظر آئے اگر تمغۂ سردار کے ساتھ

'پھر نہ کہنا میرے سالار کہ، 'معلوم نہ تھا

طاقتِ رزم بھی درکار ہے للکار کے ساتھ

اب کے آئے گا تو پوچھیں گے کہ اے جانِ جہاں

ایسے کرتے ہیں کسی یارِ طرحدار کے ساتھ؟

غزنوی بھیج دے، یا آپ پروہت بن جا

لوگ بت بن کے کھڑے ہیں تیری دیوار کے ساتھ

عاشقی مجھ کو ترے شہر میں لے جاتی ہے

کبھی حیلے سے، کبھی عشوہ و اصرار کے ساتھ

اے خدا! کیا تھا اگر اپنے خزانے سے اسے

دل بھی دے دیتا کہیں طاقتِ گفتار کے ساتھ


احمد حماد

No comments:

Post a Comment