وہ جو آوارہ مسافر ہیں کدھر جاتے ہیں
شام کے وقت پرندے بھی تو گھر جاتے ہیں
رات کی چیختی وحشت کا بھرم رکھنے کو
ہم ستاروں کی طرح تا بہ سحر جاتے ہیں
اس قدر ظرف کی تنگی کا ہمیں سامنا ہے
کچھ سمندر ہیں جو دریا میں اتر جاتے ہیں
جب بھی آتا ہے ہمیں حرفِ ملامت کا خیال
اشک آنکھوں سے کہیں دور ٹھہر جاتے ہیں
میری سوچوں کو وہ یکجا نہیں ہونے دیتا
یاد آئے تو خیالات بکھر جاتے ہیں
کس گھڑی تیز ہواؤں کو خبر ہو جائے
شہر میں جشنِ چراغاں ہو تو ڈر جاتے ہیں
بھولنے والوں پہ حیرت نہیں ہوتی مجھ کو
خشک پتے تو خزاؤں میں بکھر جاتے ہیں
اس کا سن کر یہ ہوا کرتی ہے دل کی حالت
اس قدر تیز دھڑکتا ہے کہ ڈر جاتے ہیں
جب وہ عباس تبسم کا ہنر بانٹتا ہے
کتنے دامن ہیں کہ خیرات سے بھر جاتے ہیں
حیدر عباس
No comments:
Post a Comment