اپنے خدا کو میں نے خداؤں میں بیٹھ کر
ڈھونڈا ہے بیس سال بلاؤں میں بیٹھ کر
بیٹوں کو روزگار کا غم شہر لے گیا
مائیں ضعیف ہو گئیں گاؤں میں بیٹھ کر
اس کے لکھے ہوئے کو میں کیوں مستند کہوں
صحرا پہ لکھ رہا ہے جو چھاؤں میں بیٹھ کر
سورج کو ہجر زاد کی آنکھیں لکھوں گا میں
کھڑکی سے آنے والی شعاعوں میں بیٹھ کر
حق میں تو دور میرے مخالف بھی کچھ نہیں
سکہ اچھالتا ہوں خلاؤں میں بیٹھ کر
بادِ نسیم اس طرح آئی وجود میں
وہ مسکرا رہی تھی ہواؤں میں بیٹھ کر
لاہور میں پہنچ کے یہی سوچتا تھا بس
میں کیسے چپ رہوں گا صداؤں میں بیٹھ کر
کچھ زخم بھر رہے ہیں نمک کے وجود سے
کچھ زخم کھا رہا ہوں دواؤں میں بیٹھ کر
بنتی ہے جا کے عرش پہ باران کا سبب
اک آرزو ہماری دعاؤں میں بیٹھ کر
حیدر ملی ہے عرشِ معلٰی کی ہمسری
بوزر کو بوتراب کے پاؤں میں بیٹھ کر
حیدر عباس
No comments:
Post a Comment