Wednesday, 20 October 2021

اپنے خدا کو میں نے خداؤں میں بیٹھ کر

 اپنے خدا کو میں نے خداؤں میں بیٹھ کر

ڈھونڈا ہے بیس سال بلاؤں میں بیٹھ کر

بیٹوں کو روزگار کا غم شہر لے گیا

مائیں ضعیف ہو گئیں گاؤں میں بیٹھ کر

اس کے لکھے ہوئے کو میں کیوں مستند کہوں

صحرا پہ لکھ رہا ہے جو چھاؤں میں بیٹھ کر

سورج کو ہجر زاد کی آنکھیں لکھوں گا میں

کھڑکی سے آنے والی شعاعوں میں بیٹھ کر

حق میں تو دور میرے مخالف بھی کچھ نہیں

سکہ اچھالتا ہوں خلاؤں میں بیٹھ کر

بادِ نسیم اس طرح آئی وجود میں

وہ مسکرا رہی تھی ہواؤں میں بیٹھ کر

لاہور میں پہنچ کے یہی سوچتا تھا بس

میں کیسے چپ رہوں گا صداؤں میں بیٹھ کر

کچھ زخم بھر رہے ہیں نمک کے وجود سے

کچھ زخم کھا رہا ہوں دواؤں میں بیٹھ کر

بنتی ہے جا کے عرش پہ باران کا سبب

اک آرزو ہماری دعاؤں میں بیٹھ کر

حیدر ملی ہے عرشِ معلٰی کی ہمسری

بوزر کو بوتراب کے پاؤں میں بیٹھ کر


حیدر عباس

No comments:

Post a Comment