دفتر کہانی
روز ہی میرے جیسے ہزاروں
مشقت بھری آگ پی کے یہی سوچتے ہیں
کہ اہداف کا یہ پرندہ کبھی ہاتھ آیا نہیں
دوسروں سے کہیں تیز دوڑے ہیں
لیکن کبھی ریفری نے
ہمارے لیے جیت کا شادیانہ بجایا نہیں
کس لیے دفتروں میں ہماری زمیں پر
گُلِ مہربانی کِھلے ہی نہیں؟
یعنی دربار میں ہر کوئی تُند خوئی سے دیکھے ہمیں
اب تو سرکس کے یہ بُوزنے بھی
ہمیں کوئی کرتب سکھانے کو تیار ہیں
مسکراتے ہوئے لوگ عیّار ہیں
چاپلوسی زمانے کی عادت سہی
وہ نہیں جانتے کہ اگر کھیت وتّر پہ آئیں
تو بے موسمی گھاس اُگنے لگے
وہ نہیں جانتے اس خدا کی زمیں کی
سبھی خوبیوں کی شہادت کے پہلو
انہیں تو زباں سے کسی دوسرے کے
رَگ و پے میں بس اپنا بِس گھولنا ہے
کسی دوسرے کی صداقت پہ تالا لگا کے
خود اپنے لیے جھوٹ کا ایک ادنیٰ سا دَر کھولنا ہے
پرانی کہاوت میں کارن تھے چالاک لومڑ ہی
جنگل کے شیروں کی بربادیوں کے
مگر دفتری داستاں مختلف ہے کہ
مردُم شناسی کے ماہر ہمیں اپنی سرگوشیوں میں تو
باغی قبیلوں کے سگ مانتے ہیں
مگر وسعتوں کے پرندے ہمیں
اپنے تخیل کے بال و پَر مانتے ہیں
کہ بارہ مہینوں کی یہ جنگ تو
مسخرے جیت ہی جائیں گے
اور ہم بھی نئی آگ پینے کو جِگرا نیا لائیں گے
عرفان شہود
No comments:
Post a Comment