Wednesday, 20 October 2021

دفتر کہانی روز ہی میرے جیسے ہزاروں

 دفتر کہانی


روز ہی میرے جیسے ہزاروں

مشقت بھری آگ پی کے یہی سوچتے ہیں

کہ اہداف کا یہ پرندہ کبھی ہاتھ آیا نہیں

دوسروں سے کہیں تیز دوڑے ہیں 

لیکن کبھی ریفری نے

ہمارے لیے جیت کا شادیانہ بجایا نہیں

کس لیے دفتروں میں ہماری زمیں پر 

گُلِ مہربانی کِھلے ہی نہیں؟

یعنی دربار میں ہر کوئی تُند خوئی سے دیکھے ہمیں

اب تو سرکس کے یہ بُوزنے بھی 

ہمیں کوئی کرتب سکھانے کو تیار ہیں

مسکراتے ہوئے لوگ عیّار ہیں

چاپلوسی زمانے کی عادت سہی

وہ نہیں جانتے کہ اگر کھیت وتّر پہ آئیں 

تو بے موسمی گھاس اُگنے لگے

وہ نہیں جانتے اس خدا کی زمیں کی 

سبھی خوبیوں کی شہادت کے پہلو

انہیں تو زباں سے کسی دوسرے کے 

رَگ و پے میں بس اپنا بِس گھولنا ہے

کسی دوسرے کی صداقت پہ تالا لگا کے

خود اپنے لیے جھوٹ کا ایک ادنیٰ سا دَر کھولنا ہے

پرانی کہاوت میں کارن تھے چالاک لومڑ ہی 

جنگل کے شیروں کی بربادیوں کے

مگر دفتری داستاں مختلف ہے کہ

مردُم شناسی کے ماہر ہمیں اپنی سرگوشیوں میں تو 

باغی قبیلوں کے سگ مانتے ہیں

مگر وسعتوں کے پرندے ہمیں 

اپنے تخیل کے بال و پَر مانتے ہیں

کہ بارہ مہینوں کی یہ جنگ تو 

مسخرے جیت ہی جائیں گے

اور ہم بھی نئی آگ پینے کو جِگرا نیا لائیں گے


عرفان شہود

No comments:

Post a Comment