Friday, 11 September 2020

نہ رہبری کا کوئی سلسلہ نظر آئے

نہ رہبری کا کوئی سلسلہ نظر آئے
چلو وہ راہ جو بے نقش پا نظر آئے
اڑا گئے ہیں بہت دھول جانے والے لوگ
چھٹے غبار تو کچھ راستہ نظر آئے
بس ایک لمس کا احساس کر گیا بے چین
مہک ہی تیری نہ دست ہوا نظر آئے
نگاہ چاہیے بس اہل دل فقیروں کی
برا بھی دیکھوں تو مجھ کو بھلا نظر آئے
ہمیں یہ شرم کہ ہم سے تو بندگی نہ ہوئی
وہ چاہتا ہے کہ مثل خدا نظر آئے
جو اپنے آپ سے آگے نہ دیکھ سکتا ہو
ہمارا حال بھلا اس کو کیا نظر آئے
قصوروار نہ ہو کر بھی تم مٹاؤ اسے 
انیس یار کوئی جب خفا نظر آئے

انیس دہلوی

No comments:

Post a Comment