Friday, 11 September 2020

تو جو آ جائے تو اس گھر کو سنورتا دیکھوں

تُو جو آ جائے تو اس گھر کو سنورتا دیکھوں
ایک مدت سے جو ویراں ہے، اسے بستا دیکھوں
خواب بن کر تُو برستا رہے، شبنم، شبنم
اور بس میں، اسی موسم کو نکھرتا دیکھوں
جس سے ملنا ہی نہیں، اس سے محبت کیسی
سوچتا جاؤں، مگر دل میں اترتا دیکھوں
چند لمحے، جو تیرے قرب کے مل جاتے ہیں
انہی لمحوں کو میں صدیوں میں بدلتا دیکھوں

افتخار امام صدیقی

No comments:

Post a Comment