اس میں کوئی شکوہ نہ شکایت نہ گِلا ہے
یہ بھی کوئی خط ہے کہ محبت سے بھرا ہے
کیا یاد دلائیں گے مجھے میرے ستم گر
ہر نقشِ ستم خود میرے سینے پہ لکھا ہے
مجھ کو میری آواز سنائی نہیں دیتی
کیسا یہ میرے جسم میں اک شور مچا ہے
چہرے میں ہے آئینہ کہ آئینے میں ہے چہرہ
معلوم نہیں کون کسے دیکھ رہا ہے
یہ بھی کوئی خط ہے کہ محبت سے بھرا ہے
کیا یاد دلائیں گے مجھے میرے ستم گر
ہر نقشِ ستم خود میرے سینے پہ لکھا ہے
مجھ کو میری آواز سنائی نہیں دیتی
کیسا یہ میرے جسم میں اک شور مچا ہے
چہرے میں ہے آئینہ کہ آئینے میں ہے چہرہ
معلوم نہیں کون کسے دیکھ رہا ہے
افتخار امام صدیقی
No comments:
Post a Comment