Friday, 11 September 2020

اس میں کوئی شکوہ نہ شکایت نہ گلہ ہے

اس میں کوئی شکوہ نہ شکایت نہ گِلا ہے
یہ بھی کوئی خط ہے کہ محبت سے بھرا ہے
کیا یاد دلائیں گے مجھے میرے ستم گر
ہر نقشِ ستم خود میرے سینے پہ لکھا ہے
مجھ کو میری آواز سنائی نہیں دیتی
کیسا یہ میرے جسم میں اک شور مچا ہے
چہرے میں ہے آئینہ کہ آئینے میں ہے چہرہ
معلوم نہیں کون کسے دیکھ رہا ہے

افتخار امام صدیقی

No comments:

Post a Comment