Friday, 11 September 2020

اک دل کے زیاں پر ہو پریشان مری جان

اک دل کے زیاں پر ہو پریشان مِری جان
دیکھو جو ہوئے لوگوں کے نقصان مری جان
جانا کہ یہی ہوں گے مری جان کے درپے
کہتے نہیں تھکتے جو مری جان، مری جان
جنت پہ اگر حق ہے تو بس تیرا ہے واعظ
اپنا تو کوئی دین نہ ایمان،۔ مری جان
اک عمر گزاری اسے آنکھوں سے لگاتے
اب کھول کے بھی دیکھ لو قرآن مری جان
اوروں کی شکایت جو کیا کرتے ہو باصر
کچھ آپ ہی بن جاؤ جو انسان مری جان

باصر کاظمی

No comments:

Post a Comment