Friday, 11 September 2020

ہم الگ بیٹھ رہے چپ ہو کر

ہم الگ بیٹھ رہے چپ ہو کر
اب ترے جی میں جو آئے سو کر
اب تجھے کھو کے خیال آتا ہے
تجھ کو پایا تھا بہت کچھ کھو کر
کیا برا ہے مجھے اچھا ہونا
کوئی تدبیر اگر ہے تو کر
تم نے کیا کر لیا رہ کر بیدار
ہم نے تو عمر گنوا دی سو کر
آج تک تم نہیں سنبھلے باصر
کھائی تھی کس کی گلی میں ٹھوکر

باصر کاظمی

No comments:

Post a Comment