کیا سمجھتا ہے بچھڑ کر رابطہ رہ جائے گا
اس طرح چھوڑوں گا میں تُو دیکھتا رہ جائے گا
تیرے ہونے سے یہاں موجودگی موجود ہے
تُو نہیں ہو گا تو باقی اور کیا رہ جائے گا
کوئی بھی آباد کر سکتا نہیں اس شہر کو
یہ ہمارے بعد بھی خالی پڑا رہ جائے گا
تیرے ہاتھوں میں کسی کے ہاتھ آ جائیں گے اور
کوئی تیرے بارے میں بس سوچتا رہ جائے گا
جانتا ہوں بے خیالی میں چھوا تم نے مجھے
دیر تک میرا بدن تو کانپتا رہ جائے گا
جا چکا ہے تو امان اللہ! اسے جانے ہی دے
تُو بھی کب تک اس کے پیچھے بھاگتا رہ جائے گا
امان اللہ جام
No comments:
Post a Comment