Friday, 11 March 2022

مضطرب سا رہتا ہے مجھ سے بات کرتے وقت

مضطرب سا رہتا ہے مجھ سے بات کرتے وقت

پھیر کر کلائی کو بار بار دیکھے وقت

بارہا یہ سوچا ہے گھر سے آج چلتے وقت

حادثہ نہ ہو جائے راہ سے گزرتے وقت

کوئی بھی نہیں پہنچا آگ سے بچانے کو

میں تھا اور تنہائی اپنے گھر میں جلتے وقت

میں تو خیر نادم تھا اس لیے بھی چپ چپ تھا

وہ بھی کچھ نہیں بولا راستہ بدلتے وقت

وہ وصال دو پل کا بھولتا نہیں شاہد

میں نے اس کو چوما تھا سیڑھیاں اترتے وقت


شاہد فرید

No comments:

Post a Comment